مقامات

قبلہٰ اول کے احاطے میں کچھ مقامات کی تفصیل

مسجد اقصىٰ

تمام مؤرخین اس بات پر متفق ہیں كہ مسجد اقصى كی حدود جو روز اول سے تھی وہی حدود  آج بھی برقرار ہیں، ان میں كمی بیشی نہیں ہوئی۔ مسجد اقصى اس پورے قطعہ زمین كو بولا جاتا ہے جس كے ارد گرد یہ فصیل  (دیوار) قائم ہے، لیكن كبھی كبھار  نماز پڑھنے كے لیے جو جگہ مخصوص ہے جس كو جامع قبلی بھی كہا جاتا ہے،  صرف اسے بھی مسجد اقصى كہ دیا جاتا ہے، البتہ مسجد اقصى اس مكمل جگہ كا نام ہے جس كے گرد یہ چوكور دیوار قائم ہے۔
اس سے بہت كم مسلمان واقف ہیں۔
اس فصیل كے اندر داخل ہونے كے لیے چودہ دروازے ہیں، مسجد كے آخر میں كشادہ برآمدہ ہے، برآمدے میں سات دروازے ہیں، اس كے آگے وسیع صحن ہے، اس صحن میں مختلف چھوٹی چھوٹی عمارتیں ہیں، جن میں یادگار كے طور پر تعمیر كیے گئے قبے، چبوترے، اذان كے مینارے، پانی كی سبیلیں، كنویں، مدرسے اور محرابی دروازے ہیں۔ ان عمارتوں میں سب سے بڑی اور نمایاں عمارت چٹان والے گنبد كی عمارت ہے۔ ان سب كا تعارف آگے آرہا ہے۔

جامع قِبلی

یہ مسجد  ایك گرے سبز رنگ كے گنبد كی حامل ہےاور اقصى میں جنوب كی جانب قبلہ كی سمت میں واقع ہے۔ كئى لوگوں كو غلط فہمی ہوئى ہے كہ مسجد اقصى صرف اسی كا نام ہے، حالاں كہ یہ غلط ہے ، ہم پہلے بیان كر آئے ہیں كہ مسجد اقصى مكمل احاطے كا نام ہے، اور یہ مسجد اس احاطے  كا حصہ ہے۔
اس كی تعمیر خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے كی، پھر اموی خلیفہ عبد الملك بن مروان ہی نے اس مسجد كے اوپر ایك بڑی مسجد تعمیر كروائی اور پرانی تعمیر اس نئی تعمیر  كے اندر آگئی، پھر مختلف سلاطین اسلام اس كی دیكھ بھال اور مرمت كرتےرہے۔

قبة الصخرة

یہ عمارت اقصى كے صحن میں ایك اونچے چبوترے پر قائم ہے، اس كو قبة الصخرة كہتے ہیں، قبہ كے معنى گنبد اور صخرہ چٹان كو كہتے ہیں، یہ گنبد چوں كہ ایك قدرتی چٹان پر بنایا گیا ہے اس لیے اس كا نام یہی پڑگیا ہے۔ اس عمارت كے آٹھ پہلو (كونے) ہیں، اس كی تعمیر خلیفہ عبد الملك بن مروان نے 66ھ میں شروع كی اور چھ سال بعد ان كے بیٹے  ولید بن عبد الملك نے اسے مكمل كیا۔
اس كے بعد اس كی مرمت موجودہ صورت میں ترك سلطان عبد الحمید اور سلطان عبد العزیز نے كی جو نہایت ہی عمدہ ہے۔
یہ عمارت اقصى كے صحن میں ایك اونچے چبوترے پر قائم ہے، اس كو قبة الصخرة كہتے ہیں، قبہ كے معنى گنبد اور صخرہ چٹان كو كہتے ہیں، یہ گنبد چوں كہ ایك قدرتی چٹان پر بنایا گیا ہے اس لیے اس كا نام یہی پڑگیا ہے۔ اس عمارت كے آٹھ پہلو (كونے) ہیں، اس كی تعمیر خلیفہ عبد الملك بن مروان نے 66ھ میں شروع كی اور چھ سال بعد ان كے بیٹے  ولید بن عبد الملك نے اسے مكمل كیا۔
اس كے بعد اس كی مرمت موجودہ صورت میں ترك سلطان عبد الحمید اور سلطان عبد العزیز نے كی جو نہایت ہی عمدہ ہے۔
 

 

مسجد البراق

یہ مسجد اقصى كے جنوب مغربی حصے میں باب المغاربہ كے نیچے واقع ہے، اس كا یہ نام اس مكان كی نسبت سے ركھا گیا جہاں حضور صلى اللہ علیہ وسلم نے معراج كی رات اپنی سواری براق كو باندھا تھا، اس كے مغربی دروازے كا نام بھی باب البراق ہے۔

 

 

 

نورالدین زنگی كا منبر

یہ وہ منبر ہے جسے نور الدین زنگی رحمہ اللہ نے اس غرض سے تعمیر كروایاتھا كہ جب مسجد اقصى صلیبیوں سے آزاد كروالی جائے گی تو اس منبر كو اس كے محراب میں نصب كیا جائے گا۔ اس وقت پوری دنیا میں اس منبر كی كوئی نظیر نہیں تھی۔
ان كی وفات كے بعد ان كے جانشین صلاح الدین ایوبی رحمہ اللہ نے اقصى كو آزاد كروا كے اس منبر كو یہاں نصب كروایا۔ پھر  1969ء میں یہودیوں نے مسجد اقصى میں جو ہولناك آگ لگائی تھی اس میں اس منبر كا اكثر حصہ بھی جل گیا تھا۔

مدرسے

مسجد اقصى كے شمال اور مغرب میں جو دیوار ہے اس كے ساتھ ساتھ لمبے اور چوڑے چوڑے برآمدے بنے ہوئے ہیں، ان میں نچلی اور اوپر كی منزل میں دینی علم پڑھنے كے لیے كلاسیں اور طلبہ كے رہنے كے كمرے بنے ہوئے تھے، ان مدرسوں كو مختلف مسلمان بادشاہوں نے یا ان كی بیویوں نے ایصال ثواب كے لیے بنوایا تھا۔
ان كے علاوہ اور بھی كچھ چھوٹے بڑے كمرے بنے ہوئے ملتے ہیں، جو علم دین پڑھنے والوں كے لیے بنائے گئے تھے۔
ان میں سے مشہور مدرسوں كے نام یہ ہیں:1 مدرسہ غازیہ، 2۔ مدرسہ كریمیہ، 3۔ مدرسہ باسطیہ، 4۔ مدرسیہ طولونیہ، 5۔ مدرسہ عثمانیہ۔

گنبد

یہ خوب صورت گنبد مسلمان بادشاہوں نے اس لیے بنائے تھے كہ یہاں خلوت میں بیٹھ كر كوئی عبادت كرنا چاہے تو كرلے، اور كچھ گنبد كسی خاص یاد میں بنائے گئے تھے۔ مسجد اقصى كی فضائی تصویر كو غور سے دیكھیں تو یہ تمام گنبد خوب صورت موتیوں كی طرح مسجد كے صحن میں بكھرے ہوئے نظر آتے ہیں۔
ان میں سب سے مشہور گنبد قبة المعراج ہے، جس پر یہودی فوجیوں كی برسائی گئی گولیوں كے نشانات  آج بھی موجود ہیں۔ یہ گنبد آپ صلى اللہ علیہ وسلم كے واقعہ معراج كی یاد گار كے طور پر تعمیر كیا گیا تھا۔
اس كے علاوہ دوسرے مشہور گنبد یہ ہیں: قبة السلسلة، القبة النحویة، قبة یوسف اور قبة السیخ خلیلی۔

چبوترے

چبوترہ اس جگہ كو كہتے ہیں جو زمین سے كچھ اوپر كسی خاص مقصد كے لیے جگہ بنائی جائے۔ مسجد اقصى میں یہ چبوترے كل 24 ہیں، یہ دین كا علم پڑھنے اور پڑھانے والے طلبہ كے لیے تعمیر كیے گئے تھے، ان میں سے كچھ چوكور (مربع) اور كچھ مستطیل بھی ہیں، اور ان میں قبلہ كے رخ میں اكثر  محراب كی طرح كچھ بنادیا جاتا تھا۔ یہ زیادہ تر خلافت عثمانیہ میں بنائے گئے تھے۔ اور ان میں سے زیادہ تر مسجد اقصى كے مغربی صحن میں ہیں۔ كیوں كہ وہاں درخت زیادہ تھے۔ ان میں سے جو مشہور ہیں ان كے نام یہ ہیں: بصیری كا چبوترہ، كرك كا چبوترہ، سلطان ظاہر  كا چبوترہ۔

باب الاسباط كا مینار

مسجد اقصىٰ میں اذان كے كل چار مینار ہیں۔
مسجد اقصىٰ كے شمال میں جو مینار ہے اسے باب الاسباط كا مینار كہا جاتا ہے۔ اسے امیر سیف الدین قطلوبغا نے سنہ 769ھ بمطابق 1367ء میں تعمیر كروایا تھا۔

باب الغوانمة كا مینار

مسجد اقصىٰ كے شمال مغربی جانب جو مینار ہے اسے باب الغوانمة كا مینار كہا جاتا ہے۔ جسے اموی دور میں تعمیر كیا گیا تھا، اور بعد میں اسے ازسرنو سلطان الملك منصور حسام الدین نے تعمیر كروایا۔ اور یہ سب سے بلند مینار ہے۔

باب السلسلة كا مینار

مسجد اقصىٰ كی مغربی جانب جو مینار ہے اسے باب السلسلة كا مینار كہا جاتا ہے، جسے امیر سیف الدین تنكز ناصری نے 730ھ بمطابق 1329ء میں تعمیر كروایا تھا۔ یہ مینار انتہائی حساس ہے كیوں كہ یہ دیوار براق (دیوار گریہ جس پر 1967ء سے یہودیوں كا قبضہ ہے ) كے انتہائی قریب واقع ہے۔

باب المغاربة كا مینار

مسجد اقصىٰ كے تقریبا جنوب مغربی جانب جو مینار ہے اسے باب المغاربة كا مینار اور منارہ فخریہ بھی كہا جاتا ہے، یہ سب سے چھوٹا مینار ہے اور اسے بغیر بنیادوں كے تعمیر كیا گیا ہے

Districts of Pakistan

ٰ

اپنے ضلعے کی تصا ویر ہمیں ارسال کریں
Share This