تاریخ

ماضی کے جھروکوں سے
پہلی مسجد خانہ كعبہ
خانہ كعبہ دنیا كی سب سے پہلی مسجد ہے جو حضرت آدم علیہ السلام نے روئے زمین پر تعمیر كی۔
قرآن مجىد مىں سورہ آل عمران كى آىت: 96 مىں ہے
’’بے  شك پہلا گھر جو انسانوں كے لىے (عبادت كى غرض سے) تعمىر كىا گىا وہ وہى ہے جو مكہ مىں ہے۔‘‘
قران اور نبیؑ

 

دوسری مسجد مسجد اقصىٰ
حضرت آدم علیہ السلام نے مسجد اقصىٰ كو خانہ كعبہ كی تعمیر كے چالیس سال بعد تعمیر فرمایا۔ اس كی مسافت خانہ كعبہ سے 1234 كلو میٹر ہے۔
طوفان، حضرت نوح علیہ السلام اورمسجد اقصىٰ
بعض مؤرخین کا خیال ہے کہ مسجد اقصی حضرت آدم علیہ السلام کے زمانے سے حضرت نوح علیہ السلام کے زمانے تک مسلسل آباد رہی، اور حضرت نوح علیہ السلام کے زمانے میں آنے والے طوفان کی وجہ سے وہ بھی منہدم ہوگئی۔
قرآن اور نبیؑ
مسجد اقصی کی تعمیرنو
حضرت عیسى علیہ السلام كی آمد سے تین ہزار سال پہلے اس شہر كو كنعان كے لوگوں (یبوسیوں) نے جو عرب سے آکر یہاں آباد ہوگئے تھے، انہوں نے  آباد كیا۔
اس سرزمین كا نام (فلسطین) كنعان كے لوگوں سے شروع ہوا، اور یہی وہ لوگ ہیں جو صدیوں سے فلسطین میں رہتے آرہے ہیں۔
بعض مؤرخین کا یہ بھی ماننا ہے کہ ان ہی یبوسیوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے آنے سے پہلے مسجد اقصی کی تعمیر نو بھی کی تھی۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام
 حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کے ساتھ خانہ کعبہ اور حضرت اسحاق علیہ السلام  کے ساتھ مسجد الاقصیٰ کی تعمیر نو کی۔
حضرت اسحاق علیہ السلام كی اولاد بعد میں یہودی اور حضرت اسماعیل علیہ السلام كی اولاد آگے جا كر مسلمان كہلائے۔

 

قرآن اور نبیؑ
حضرت اسحٰق علیہ السلام
حضرت اسحٰق علیہ السلام نے اپنی زندگی میں مسجد اقصى كا خوب خیال ركھا، آپ سے ایك بیٹا پیدا ہوا جو حضرت یعقوب علیہ السلام كے نام سے جانے جاتے ہیں اور پیغمبر بھى تھے
حضرت یعقوب علیہ السلام اور حضرت یوسف علیہ السلام
حضرت یعقوب علیہ السلام كے تیرہ بیٹے تھے، جن میں سے ایك حضرت یوسف علیہ السلام تھے، جنہیں اللہ نے بہت سے فضائل بخشے اور وہ بہت ہی خوب صورت نوجوان تھے۔ اللہ تعالى نے قرآن میں ان كا قصہ كافی تفصیل سے ذكر كیا ہے كیوں كہ اس میں ہمارے لیے بہت سی سبق آموز چیزیں ہیں۔
حضرت یوسف علیہ السلام کے ہی زمانے میں حضرت یعقوب علیہ السلام اور ان کی اولاد (یعنی کہ بی اسرائیل) مصر آ کر آباد ہوئے

 

قرآن اور نبیؑ

حضرت موسىٰ علیہ السلام
حضرت یوسف علیہ السلام كے چند سو سالوں بعد اللہ تعالى نے اپنے پیغمبر حضرت موسى علیہ السلام كو مصر میں بھیجا، آپ كو حضرت یعقوب علیہ السلام كی اولاد كو بچانے، اور بنى اسرائىل كى ہداىت كے لیے بھیجا گیا تھا۔
بنى اسرائىل حضرت موسی علیہ السلام کی ساتھ مصر سے واپس فلسطین جانے کی لیے نکلے اور یہ سفر حضرت یوشع بن نون علیہ السلام کی قیادت میں مکمل ہوا۔

 

قرآن اور نبیؑ

حضرت داؤد علیہ السلام اور حضرت سلیمان علیہ السلام
حضرت داؤد علیہ السلام نے پھر سے مسجد اقصىٰ کی تعمیر کو شروع كرایا، جو كھنڈرات میں تھى۔حضرت داؤد علیہ السلام اپنی وفات سے قبل یہ كام مكمل نہیں كرپائے اور وفات پا گئے۔ ان كے بیٹے، حضرت سلیمان علیہ السلام، جو كہ خود بھی اللہ كے پیغمبر تھے، انھوں نے مسجد اقصىٰ كی تعمیرکو جاری ركھا اور اس تعمیر كو آپؑ ہی نے مكمل فرمایا۔

 

قرآن اور نبیؑ

عراق كے بادشاہ بخت نصر نے یروشلم پر حملہ كیا
   عراق كے بادشاہ بخت نصر نے ۵۸۷ قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ كیا اور  اس تعمیر كی اینٹ سے اینٹ  بجادی، وہ یہودیوں كی عورتوں اور بچوں كو گرفتار كركے اپنے ساتھ بابل لے گیا، اور یہودیوں كے مذہبی صحیفے نذر آتش كركے ایك لاكھ یہودیوں كو قیدی بھی بنالیا۔

 

مسجد اقصىٰ دوبارہ تعمیر ہوئی
پھر كچھ عرصے بعد  بخت نصر كی حكومت كو زوال آگیا، اور ایران كے بادشاہ خورس نے بابل كو فتح كركے تمام بنی اسرائیل كو یروشلم واپس جانے كی اجازت دے دی۔

 

حضرت زكريا عليه السلام اور يحيى عليه السلام
حضرت زكريا عليه السلام کے نام سے منسوب منبر آج بھی مسجد کے  احاطے میں موجود ہے جس کی تصویر دی جا رہی ہے۔

 

قرآن اور نبیؑ

حضرت عيسىٰ عليه السلام اور مريم عليهما السلام
حضرت عيسىٰ عليه السلام اور ان سے متعلق بہت سے اہم مقامات بھی مسجد الاقصیٰ کے ساتھ ساتھ ہی موجود ہیں۔

 

قرآن اور نبیؑ

روم كے لوگوں نے یروشلم پر حملہ كركے مسجد اقصىٰ كو منہدم كردیا
جب حضرت عیسى علیہ السلام كو آسمان پر اٹھایا گیا تو اس كے ستر سال گذر جانے كے بعد مسجد اقصىٰ پر روم كے لوگوں نے حملہ كركے بہت تباہی اور بربادی پھیلائی۔
مسجد اقصىٰ كی صرف چار دیواری كھڑی رہ گئى اس كے علاوہ مكمل مسجد منہدم ہوگئى اور یہ بنی اسرائیل پر بہت سخت وقت تھا۔مسجد اقصىٰ  آخری نبی كے آنے تك اسی طرح رہی۔
 

واقعہ معراج

سورة بنیٓ اسرآئیل / الإسرَاء

وہ (ذات) پاک ہے جو ایک رات اپنے بندے کو مسجدالحرام یعنی (خانہٴ کعبہ) سے مسجد اقصیٰ (یعنی بیت المقدس) تک جس کے گردا گرد ہم نے برکتیں رکھی ہیں لے گیا تاکہ ہم اسے اپنی (قدرت کی) نشانیاں دکھائیں۔ بےشک وہ سننے والا (اور) دیکھنے والا ہے ﴿1
 
 

اللہ تعالى نے خانہ كعبہ كو قبلہ مقرر كردیا
آپ صلى اللہ علیہ وسلم اور تمام مسلمان جب تك مكہ میں تھے مسجد اقصىٰ كی طرف ہی منہ كركے نماز پرھتے تھے۔ یہ مدت كل بارہ سالوں پر مشتمل ہے اور جب مسلمان مكہ سے ہجرت كركے مدینہ آئے تب بھی سترہ ماہ تك مسلمان مسجد اقصىٰ ہی كی طرف منہ كركے نماز پڑھتے رہے۔
 اس کے بعد اللہ نے مسلمانوں كو حكم دیا كہ اب اپنا منہ مسجد اقصىٰ كو چھوڑ كر خانہ كعبہ كی طرف  جو كہ مكہ میں واقع ہے، كركے نماز پڑہیں۔
 

سُوۡرَةُ البَقَرَة

  احمق لوگ کہیں گے کہ مسلمان جس قبلے پر (پہلے سے چلے آتے) تھے (اب) اس سے کیوں منہ پھیر بیٹھے۔ تم کہہ دو کہ مشرق اور مغرب سب خدا ہی کا ہے۔ وہ جس کو چاہتا ہے، سیدھے رستے پر چلاتا ہے ﴿۱۴۲﴾  اور اسی طرح ہم نے تم کو امتِ معتدل بنایا ہے، تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو اور پیغمبر (آخرالزماں) تم پر گواہ بنیں۔ اور جس قبلے پر تم (پہلے) تھے، اس کو ہم نے اس لیے مقرر کیا تھا کہ معلوم کریں، کون (ہمارے) پیغمبر کا تابع رہتا ہے، اور کون الٹے پاؤں پھر جاتا ہے۔ اور یہ بات (یعنی تحویل قبلہ لوگوں کو) گراں معلوم ہوئی، مگر جن کو خدا نے ہدایت بخشی (وہ اسے گراں نہیں سمجھتے) اور خدا ایسا نہیں کہ تمہارے ایمان کو یونہی کھو دے۔ خدا تو لوگوں پر بڑا مہربان (اور) صاحبِ رحمت ہے ﴿۱۴۳﴾  (اے محمدﷺ) ہم تمہارا آسمان کی طرف منہ پھیر پھیر کر دیکھنا دیکھ رہے ہیں۔ سو ہم تم کو اسی قبلے کی طرف جس کو تم پسند کرتے ہو، منہ کرنے کا حکم دیں گے تو اپنا منہ مسجد حرام (یعنی خانہٴ کعبہ) کی طرف پھیر لو۔ اور تم لوگ جہاں ہوا کرو، (نماز پڑھنے کے وقت) اسی مسجد کی طرف منہ کر لیا کرو۔ اور جن لوگوں کو کتاب دی گئی ہے، وہ خوب جانتے ہیں کہ (نیا قبلہ) ان کے پروردگار کی طرف سے حق ہے۔ اور جو کام یہ لوگ کرتے ہیں، خدا ان سے بے خبر نہیں ﴿۱۴۴﴾  اور اگر تم ان اہلِ کتاب کے پاس تمام نشانیاں بھی لے کر آؤ، تو بھی یہ تمہارے قبلے کی پیروی نہ کریں۔ اور تم بھی ان کے قبلے کی پیروی کرنے والے نہیں ہو۔ اور ان میں سے بھی بعض بعض کے قبلے کے پیرو نہیں۔ اور اگر تم باوجود اس کے کہ تمہارے پاس دانش (یعنی وحئ خدا) آ چکی ہے، ان کی خواہشوں کے پیچھے چلو گے تو ظالموں میں (داخل) ہو جاؤ گے ﴿۱۴۵﴾ 
 

یروشلم فتح ہوا
حضرت محمد صلى اللہ علیہ وسلم كی وفات كےچھ سال بعد مسلمانوں کا لشکر مختلف ممالک فتح کرتا ہوا  یروشلم تک پہنچ گیا۔ اس وقت وہاں عیسائیوں کی حکومت تھی۔ وہ قلعہ بند ہوگئے۔ اور صلح کے لیے یہ شرط رکھی کہ مسلمانوں کے خلیفہ خود آئیں تو وہ انہیں شہر کی چابی حوالے کریں گے۔ چناں چہ خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو اس کی اطلاع دی گئی تو آپ خود یروشلم گئے اور اس وقت وہاں پر قابض عیسائیوں سے معاہدہ كركے  یروشلم كو اسلامی حكومت كے ماتحت لے آئے۔

تاریخ ملت سے کچھ اقتسابات

عہد نامہ صلح
یہیں اہل قدس کے نمائندے خلیفۃ المسلمین کی خدمت میں حاضر ہوئے اور صلح کی درخواست کی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ درخواست منظور کی اور حسب ذیل عہد نامہ اپنے دستخطوں سے لکھ کر ان کو عطا فرمایا۔
’’اللہ کے بندہ عمر امیر المؤمنین کی طرف سے اہل ایلیا (بیت المقدس) کو یہ امان نامہ دیا جاتا ہے۔ اہل ایلیا کی جان، مال ، گرجوں ، صلیبوں  سب کو امان دی جاتی ہے۔ بیماروں ، تندرستوں اور سب مذہب کے لوگوں کو یہ امان شامل ہے۔ وعدہ کیا جاتا ہے کہ نہ ان کے عبادت خانوں پر قبضہ کیا جائے گا نہ انہیں گرایا جائے گا۔ ان کے دینی معاملات میں کوئی مداخلت نہ کی جائے گی اور یوں بھی کسی کو کوئی تکلیف نہ دی جائے گی۔ البتہ ان کے پاس یہودی نہ رہنے پائیں گے۔ اہل ایلیا کا فرض ہے کہ وہ جزیہ ادا کرتے رہیں اور متحارب رومیوں کو اپنے شہر سے خارج کردیں ۔ جو رومی شہر سے نکلے گا اس کی جان و مال سے کوئی تعرض نہ کیا جائے گا۔ حتی کہ وہ اپنے وطن سلامتی کے ساتھ پہنچ جائے۔
اگر اہل ایلیامیں سے کوئی رومیوں کے ساتھ جانا چاہے تو وہ بھی جاسکتا ہے۔ لیکن اگر رومی بھی امن پسندانہ طور پر رہنا چاہیں تو انہیں بھی ان ہی شرائط کے ساتھ رہنے کی اجازت ہے۔ اس امان نامہ کی اللہ اور اس کا رسول اور آپ کے خلفاء اور جملہ مؤمنین ذمہ داری لیتے ہیں۔‘‘
بیت المقدس میں داخلہ: اس عہد نامہ کی تکمیل کے بعد اہل قدس نے شہر کے دروازے کھول دیے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بیت المقدس کا قصد کیا۔
بیت المقدس کے سفر کے لیے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں ایک ترکی گھوڑا پیش کیا گیا۔ آپ سوار ہوئے تو گھوڑا الیل کرنے لگا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اتر پڑے اور فرمانے لگے: کم بخت ! تو نے یہ غرور کی چال کہاں سے سیکھی؟ اور اپنے گھوڑے کو منگا کر اسی پر روانہ ہوئے۔ اس واقعہ کے بعد کبھی آپ ترکی گھوڑے پر سوار نہ ہوئے۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ رات کے وقت بیت المقدس میں داخل ہوئے۔ سب سے پہلے مسجد اقصی میں حاضری دی۔ اور محراب داؤد میں دو رکعت ’’تحیۃ المسجد‘‘ ادا کی۔
 

قبة الصخرة کی تعمیر
بنو امیہ  كے ایك خلیفہ جن كا نام عبد الملك بن مروان تھا، انہوں نے اسی مسجد (جو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے بنوائی تھی) اس كے اوپر ایك بڑی مسجد تعمیر كروائی، اس طرح حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ كی بنائی ہوئی مسجد مكمل اس مسجد كے اندر ہی آگئی جو عبد الملك بن مروان نے تعمیر كروائی تھی۔ ابھی بھی یہی تعمیر قائم ہے، بعد میں مختلف اسلامی بادشاہوں نے اس كی مرمت كا كام جاری ركھا۔
اس كے علاوہ انہوں نے ایك اور نہایت وسیع اور عالی شان عمارت تعمیر كی جس كا نام قبة الصخرة  ہے، جو ابھی بھی انہی بنیادوں پر قائم ہے۔ قبة الصخرة كا گنبد سنہری رنگ كا ہے، اور اس كی چار دیواری نیلے اور خوب صورت پتھروں سے منقش ہے۔
 

سنہ 1099 عیسوی میں صلیبی افواج نے یروشلم پر حملہ كیا
سنہ 1099 عیسوی میں عیسائیوں كی مشتركہ فوج جنہیں صلیبی افواج كہا جاتا ہے، انھوں نے یروشلم پر حملہ كیا اور پانچ ہفتوں كی مسلسل جنگ كے بعد یروشلم پر قبضہ كرلیا، اس دوران انہوں نے یروشلم میں كافی خون خرابا كیا اور ستر ہزار مسلمان مردوں ، عورتوں اور بچوں كو قتل كیا

 

صلاح الدین ایوبی رحمہ اللہ نے بیت المقدس کو ازاد کروایا
جب یروشلم پر صلیبی افواج قابض تھیں، مسلمان ہمیشہ متفكر رہتے تھے كہ كس طرح سے یروشلم كو صلیبیوں كے جابرانہ تسلط سے آزاد كرایا  جائے، اور پھر سے اسے اپنی تحویل میں واپس لایا جائے، اسی فكر كے ساتھ مسلمان بادشاہ نور الدین رحمة اللہ علیہ نے اقصىٰ كے لیے ایك بہترین منبر  بھی بنوایا تھا،  تاكہ یروشلم كی آزادی كے موقع پر اسے اقصىٰ میں نصب كیا جائے، تاہم نور الدین بادشاہ اپنے اس مبارك ارادے كی تكمیل سے پہلے  اپنی نوعمری میں ہی وفات پاگئے اور یروشلم كو صلیبیوں سے آزاد نہ كراسكے۔
اس كے بعد صلاح الدین ایوبی مسلمانوں كے بادشاہ ہوئے،  جو بہت ہی بہادر بادشاہ تھے، انھوں نے پھر سے مسلمانوں كو جمع  كیا، اور صلیبی افواج كے خلاف جنگ كی قیادت سنبھالی، سنہ 1187 عیسوی كے سال صلاح الدین نے صلیبی افواج كو شكست دی، اور یروشلم كو ایك بارپھر سےآزاد كروالیا۔اور اس كے بعد صلاح الدین نے وہ خوب صورت منبر بھى مسجد اقصىٰ میں نصب كروادیا جو نور الدین بادشاہ نے مسجد اقصىٰ كے لیے بنوایا تھا۔ بدقسمتی سے یہ منبر  ایك یہودی كے ہاتھوں سنہ 1969 عیسوی میں نذر آتش ہوگیا۔

تاریخ ملت سے کچھ اقتسابات

حروب صلیبیہ
سلطان نے حارم پر قبضہ کرنے کے بعد فرنگیوں سے معرکہ آرائی شروع کردی۔ 579ھ میں فوجیں  جمع کرکے فرنگی علاقہ پر حملہ کردیا۔ متواتر چودہ سال تک نصاری سے جہاد کیا۔ شام کے تمام علاقے نصاری سے بہ قوت لے لیے۔ بیت المقدس فتح کیا۔ اسلام کے دشمن ریجی نالڈ کو قتل کیا۔ دوسرے عیسائی حکمران گامی، بالڈون، والڈ، کورنتی، جوسکن وغیرہ جو گرفتار تھے ان کی جان بخشی کی۔ اس معرکہ کے حالات ’’تاریخ ملت‘‘ کی جلد ششم میں بیان کیے جاچکے ہیں۔ اس زمانہ میں موصل پر حملہ کیا۔ عزیز الدین نے اطاعت قبول کرلی۔
لین پول نے لکھا ہے:
’’جنگ مقدس خاتمہ کو پہنچی، پانچ برس کی مسلسل لڑائیاں ختم ہوئیں، جولائی 1187ء میں مطیق پر مسلمانوں کی فتح سے قبل دریائے اردن کے مغرب میں مسلمانوں کے پاس ایک انچ زمین نہ تھی۔ ستمبر 1192ء میں جب رملہ پر صلح ہوئی تو صور سے لے کر یافہ کے ساحل تک بجز ایک پتلی سی پٹی کے سارا ملک مسلمانوں کے قبضہ میں تھا۔‘‘
رواداری:
صلیبیوں نے اپنی فتوحات کے موقعہ پر مسلمانوں کے ساتھ طالمانہ سلوک کیے تھے۔ بیت المقدس جب نصرانیوں نے لیا ہے تو صرف مسجد صخرا میں ستر ہزار مسلمان قتل کیے تھے۔ مگر جب بیت المقدس کو صلاح الدینؒ نے فتح کیا تو عیسائیوں کو معمولی فدیہ لے کر بعزت و احترام نکلنے کا حکم دیا اور ان کے لیے زیارت کی عام اجازت مرحمت کی۔ غرض یہ کہ سلطان نے اپنی فوج کو آرام کرنے کے لیے ان کے وطن واپس کردیا۔ چند ماہ بیت المقدس میں قیام کیا۔ شہر پناہ کی مرمت کرائی۔ خندق کھدوائی، شفاخانہ تعمیر کرایا۔ انتظام  شہر امیر عزیز الدین جردیک کے سپرد کرکے شوال 588ھ میں حج کے ارادہ سے دمشق چلا گیا۔
سلطان کے اہل و عیال دمشق میں موجود تھے وہیں اس کے بھائی ملک عادل کرک سے آگئے تھے۔ سارا خاندان نہایت امن و آرام کے ساتھ رہنے سہنے لگا۔ سلطان کو دمشق اس قدر پسند تھا کہ مصر جانے کا خیال بھی نہ کیا۔
وفات
کئی سال سے سلطان کی صحت بگڑ گئی تھی، جہاد کی مساعی میں اس نے کچھ خیال نہ کیا۔ رمضان کے روزے قضا ہوگئے تھے ان کو پورا کرنے لگا جو مزاج کے موافق نہ پڑے۔ طبیب نے روکا کہ صحت کے لیے اس وقت ملتوی کردیجیے۔ سلطان نے کہا: معلوم نہیں آئندہ کیا پیش آئے؟ اور کل روزے پورے کیے۔ جس سے صحت جواب دے گئی۔ وسط صفر 589ھ میں حالت بگڑنے لگی، مرض بڑھ گیا، غشی طاری ہوگئی۔ شیخ ابو جعفر نے قرآن مجید کی تلاوت کی۔ 27 تاریخ دو شنبہ کے دن فجر کے وقت مجاہد اعظم نے جاں بحق تسلیم کی۔

 

برطانوی انگریزوں نے مسجد اقصىٰ پر قبضہ كرلیا
1918
عیسوی میں سب كچھ تبدیل ہوگیا جب كہ برطانوی حكومت نےیروشلم كو اسلامی حكومت سے چھین كر اپنے قبضے میں لے لیا، اور مكمل فلسطین كو اپنے زیر قبضہ لینا شروع كردیا۔

 

یہودیوں نے آزاد اسرائیلی ریاست كا اعلان كردیا
برطانوی قبضے كے بعد یہودی لوگ دنیا بھر سے یروشلم میں آكر رہائش پذیر ہونا شروع ہوگئے كیوں كہ دنیا بھر میں انہیں ظلم واذیت كاسامنا تھا
چند سالوں بعد ہزاروں كی تعداد میں یہودی لوگ فلسطین میں داخل ہوئے اور فلسطین میں انہوں نے اپنے لیے جگہیں خریدنا شروع كی، جب كہ فلسطینی مسلمان جوں كہ اس سرزمین سے پرانا تعلق ركھتےتھے، اور سینكڑوں سالوں سے اس جگہ بسے ہوئے تھے اس لیے انہوں نے اپنی سر زمین كو چھوڑنے سے انكار كردیا۔
چناں چہ اس معاملے میں لڑائیاں شروع ہو گئیں، كہ فلسطینی حضرات اپنی زمین كو چھوڑنے پر تیار نہیں تھے جب كہ یہودی ان كی زمین كو زور زبردستی ہتھیانا چاہتے تھے، چوں كہ یہودیوں كی فوج مسلمانوں سے بہت زیادہ طاقت ور تھی اس لیے فلسطین كی  زیادہ تر زمین پر ان یہودیوں نے قبضہ كرلیا۔
1948
  یہودیوں نے آزاد اسرائیلی ریاست كا اعلان كردیا
 

مسجد اقصىٰ پر بھی یہودیوں نے قبضہ كرلیا
1967
میں مزید لڑائیاں ہوئیں اور اس طرح یہودیوں نے مسجد اقصىٰ پر بھی قبضہ كرلیا، اور مكمل یروشلم كو اپنے قبضہ میں لے لیا۔

 

 

یہودیوں كا مسجد اقصىٰ سے متعلق دعوى ہے كہ اس پر ان ہی كا حق ہے
یہودیوں كا  اس بات پر اصرار ہے كہ تاریخی تناظر میں  یروشلم اور مسجد اقصىٰ پر ان ہی كا حق ہے ، اور مسلمانوں كا اس پر كوئى حق نہیں۔ اس لیے وہ چاہتے ہیں كہ یروشلم سے مسجد اقصىٰ كو منہدم كركے وہاں اپنا عبادت خانہ ہیكل سلیمانی (سولومن ٹیمپل) تعمیر كریں۔ ان كا كہنا ہے كہ ہمارے نبی داؤد اور سلیمان علیہ السلام نے یہاں یہودی عبادت خانہ تعمیر كیا تھا،لہذا آج بھی ہم ہی اس كے زیادہ حق دار ہیں كہ اس جگہ اپنا عبادت خانہ تعمیر كریں. موجودہ عہد میں یہ اپنی عبادات دیوار براق كے پاس كھڑے ہوكر کر تے ہیں۔

یہودیوں كا دعوى غلط ہے، مسجد اقصىٰ پر مسلم كا حق ہے
لیكن ان كی یہ بات تاریخی  لحاظ سے بھی غلط ہے۔ فلسطین پر عربوں كا حق ثابت كرنے كے لیے درج ذیل نكات تاریخی حیثیت ركھتے ہیں۔ یہ نكات اس تقریر كا حصہ ہیں جو عالم اسلام كے بہترین حكمران سعودی عرب كے فرماں رواں شاہ فیصل مرحوم نے ایك بین الاقوامی سیمینار میں كی تھی:
یہودی فلسطین كے اصل باشندے نہیں ہیں۔-یہودی  یروشلم كے باہر سے آكر یروشلم پر قابض ہوئے تھے جو فلسطین پر طاقت سے مسلط ہونے كے بعد كچھ عرصہ فلسطین میں رہے اور اس كے بعد نكال دیے گئے۔
فلسطین میں ان كی موجودگی كا عرصہ نہایت مختصر رہا ہے۔
 فلسطین میں حضرت سلیمان علیہ السلام كے زمانے سے لے كر اب تك كبھی خالص یہودی حكومت قائم نہیں ہوئى۔
 حضرت سلیمان علیہ السلام نے كوئی یہودی عبادت خانہ یروشلم میں تعمیر نہیں فرمایا تھا، بلكہ آپ اور آپ كے والد حضرت داؤد علیہ السلام نے مل كر اسی مسجد كی تعمیر كی تھی جو حضرت آدم علیہ السلام كے دور میں وہاں تعمیر ہوچكی تھی، جسے بعد ازاں ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام نے بھی واپس اس كی بنیادوں پر استوار كیا تھا۔ تو یہ كوئی نئی تعمیر نہیں تھی بلكہ پرانی تعمیر كو دوبارہ كھڑا كیا تھا۔
فلسطین میں یہودیوں كی كبھی اكثریت نہیں رہی۔
 جب فلسطین سے یہودیوں كو نكال دیا گیا تو اس میں صرف اس كے اصل باشندے ہی رہ گئے جو شروع سے لے كر آج تك وہیں رہ رہے ہیں۔
 سولہ سو سال كی طویل مدت كے دوران فلسطین میں كبھی كوئی یہودی آباد نہیں رہا۔
 عربوں كی حكومت تقریبا ساتویں صدی سے فلسطین میں رہی۔
آج وہاں سیكڑوں تاریخی عمارات موجود ہیں جو عرب طرز تعمیر كا نمونہ ہیں۔
اس لیے تاریخی حقائق سے بھی یہ بات واضح ہوجاتی ہے كہ یروشلم یعنی فلسطین پر مسلمانوں ہی كا حق ہے، یہودی لوگ اس پر اپنا حق جو جتلاتے ہیں وہ سراسر دھوكا اور فریب ہے۔ كیوں كہ یروشلم میں حضرت آدم علیہ السلام نے جو مسجد صرف اللہ كی عبادت كے لیے تعمیر كی تھی، وہ مسجد آج بھی اسی جگہ موجود ہے اور وہاں صرف اللہ ہی كی عبادت ہوتی ہے۔ یہ الگ بات ہے كہ مختلف زمانوں میں یہ مسجد گرتی رہی اور اس كی تعمیر نو ہوتی رہی۔

For more detailed recent history, see the following link

بات تو سچ ہے

The Blog

About things that matter the most

Share This