احادیث

مسجد الاقصی اور دجال کے بارے میں
ابو درداء رضي الله عنه سے روايت هے كه نبي كريم صلى الله عليه وسلم نے فرمايا كه  خانه كعبه ميں نماز پڑھنے كا ثواب دس لاكھ نمازوں كے برابر هے، اور مسجد نبوي ميں ميں  نماز پڑھنے كا ثواب ايك هزار نمازوں كے برابر هے، اور مسجد اقصى ميں نماز پڑھنے كا ثواب پانچ سو نمازوں كے برابر هے۔ (معجم كبير طبراني)
حضرت ام سلمة (ام المؤمنين) سے روايت هے كه آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمايا كه  جس شخص نے  مسجد اقصى سے خانه كعبه  تك حج يا عمرے كا احرام باندھا اس كے اگلے اور پچھلے تمام گناه معاف هوجائيں گے۔ (سنن أبي داؤد)

 

حضرت ابو هريره رضي الله عنه سے روايت هے كه آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمايا كه سفر كرنے كے ليے اگر تياري كي جائے تو صرف تين مسجدوں كے سفر كے ليے تياري كرو، ايك تو مسجد حرام، اور دوسري مسجد نبوي، اور تيسري مسجد اقصى۔ (بخاري)
ابو امامه رضي الله عنه نے فرمايا كه ميري امت ميں سے ايك جماعت هميشه قائم اور دشمنوں پر غالب رهے گي اور ان كي مخالفت كرنے والا ان كو  كوئي نقصان نهيں پهنچا سكے گا يهاں تك كه اسي حال ميں الله كا حكم آجائے۔ صحابه نے فرمايا كه اے الله كے رسول وه كهاں هوں گے؟ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمايا كه بيت المقدس اور اس كے اطراف ميں۔ (مسند احمد)
فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ جَلَسَ عَلَى الْمِنْبَرِ، وَهُوَ يَضْحَكُ، فَقَالَ: «لِيَلْزَمْ كُلُّ إِنْسَانٍ مُصَلَّاهُ»، ثُمَّ قَالَ: «أَتَدْرُونَ لِمَ جَمَعْتُكُمْ؟» قَالُوا: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: ” إِنِّي وَاللهِ مَا جَمَعْتُكُمْ لِرَغْبَةٍ وَلَا لِرَهْبَةٍ، وَلَكِنْ جَمَعْتُكُمْ، لِأَنَّ تَمِيمًا الدَّارِيَّ كَانَ رَجُلًا نَصْرَانِيًّا، فَجَاءَ فَبَايَعَ وَأَسْلَمَ، وَحَدَّثَنِي حَدِيثًا وَافَقَ الَّذِي كُنْتُ أُحَدِّثُكُمْ عَنْ مَسِيحِ الدَّجَّالِ، حَدَّثَنِي أَنَّهُ رَكِبَ فِي سَفِينَةٍ بَحْرِيَّةٍ، مَعَ ثَلَاثِينَ رَجُلًا مِنْ لَخْمٍ وَجُذَامَ، فَلَعِبَ بِهِمِ الْمَوْجُ شَهْرًا فِي الْبَحْرِ، ثُمَّ أَرْفَئُوا إِلَى جَزِيرَةٍ فِي الْبَحْرِ حَتَّى مَغْرِبِ الشَّمْسِ، فَجَلَسُوا فِي أَقْرُبِ السَّفِينَةِ فَدَخَلُوا الْجَزِيرَةَ فَلَقِيَتْهُمْ دَابَّةٌ أَهْلَبُ كَثِيرُ الشَّعَرِ، لَا يَدْرُونَ مَا قُبُلُهُ مِنْ دُبُرِهِ، مِنْ كَثْرَةِ الشَّعَرِ، فَقَالُوا: وَيْلَكِ مَا أَنْتِ؟ فَقَالَتْ: أَنَا الْجَسَّاسَةُ، قَالُوا: وَمَا الْجَسَّاسَةُ؟ قَالَتْ: أَيُّهَا الْقَوْمُ انْطَلِقُوا إِلَى هَذَا الرَّجُلِ فِي الدَّيْرِ، فَإِنَّهُ إِلَى خَبَرِكُمْ بِالْأَشْوَاقِ، قَالَ: لَمَّا سَمَّتْ لَنَا رَجُلًا فَرِقْنَا مِنْهَا أَنْ تَكُونَ شَيْطَانَةً، قَالَ: فَانْطَلَقْنَا سِرَاعًا، حَتَّى دَخَلْنَا الدَّيْرَ، فَإِذَا فِيهِ أَعْظَمُ إِنْسَانٍ رَأَيْنَاهُ قَطُّ خَلْقًا، وَأَشَدُّهُ وِثَاقًا، مَجْمُوعَةٌ يَدَاهُ إِلَى عُنُقِهِ، مَا بَيْنَ رُكْبَتَيْهِ إِلَى كَعْبَيْهِ بِالْحَدِيدِ، قُلْنَا: وَيْلَكَ مَا أَنْتَ؟ قَالَ: قَدْ قَدَرْتُمْ عَلَى خَبَرِي، فَأَخْبِرُونِي مَا أَنْتُمْ؟ قَالُوا: نَحْنُ أُنَاسٌ مِنَ الْعَرَبِ رَكِبْنَا فِي سَفِينَةٍ بَحْرِيَّةٍ، فَصَادَفْنَا الْبَحْرَ حِينَ اغْتَلَمَ فَلَعِبَ بِنَا الْمَوْجُ شَهْرًا، ثُمَّ أَرْفَأْنَا إِلَى جَزِيرَتِكَ هَذِهِ، فَجَلَسْنَا فِي أَقْرُبِهَا، فَدَخَلْنَا الْجَزِيرَةَ، فَلَقِيَتْنَا دَابَّةٌ أَهْلَبُ كَثِيرُ الشَّعَرِ، لَا يُدْرَى مَا قُبُلُهُ مِنْ دُبُرِهِ مِنْ كَثْرَةِ الشَّعَرِ، فَقُلْنَا: وَيْلَكِ مَا أَنْتِ؟ فَقَالَتْ: أَنَا الْجَسَّاسَةُ، قُلْنَا: وَمَا الْجَسَّاسَةُ؟ قَالَتْ: اعْمِدُوا إِلَى هَذَا الرَّجُلِ فِي الدَّيْرِ، فَإِنَّهُ إِلَى خَبَرِكُمْ بِالْأَشْوَاقِ، فَأَقْبَلْنَا إِلَيْكَ سِرَاعًا، وَفَزِعْنَا مِنْهَا، وَلَمْ نَأْمَنْ أَنْ تَكُونَ شَيْطَانَةً، فَقَالَ: أَخْبِرُونِي عَنْ نَخْلِ بَيْسَانَ، قُلْنَا: عَنْ أَيِّ شَأْنِهَا تَسْتَخْبِرُ؟ قَالَ: أَسْأَلُكُمْ عَنْ نَخْلِهَا، هَلْ يُثْمِرُ؟ قُلْنَا لَهُ: نَعَمْ، قَالَ: أَمَا إِنَّهُ يُوشِكُ أَنْ لَا تُثْمِرَ، قَالَ: أَخْبِرُونِي عَنْ بُحَيْرَةِ الطَّبَرِيَّةِ، قُلْنَا: عَنْ أَيِّ شَأْنِهَا تَسْتَخْبِرُ؟ قَالَ: هَلْ فِيهَا مَاءٌ؟ قَالُوا: هِيَ كَثِيرَةُ الْمَاءِ، قَالَ: أَمَا إِنَّ مَاءَهَا يُوشِكُ أَنْ يَذْهَبَ، قَالَ: أَخْبِرُونِي عَنْ عَيْنِ زُغَرَ، قَالُوا: عَنْ أَيِّ شَأْنِهَا تَسْتَخْبِرُ؟ قَالَ: هَلْ فِي الْعَيْنِ مَاءٌ؟ وَهَلْ يَزْرَعُ أَهْلُهَا بِمَاءِ الْعَيْنِ؟ قُلْنَا لَهُ: نَعَمْ، هِيَ كَثِيرَةُ الْمَاءِ، وَأَهْلُهَا يَزْرَعُونَ مِنْ مَائِهَا، قَالَ: أَخْبِرُونِي عَنْ نَبِيِّ الْأُمِّيِّينَ مَا فَعَلَ؟ قَالُوا: قَدْ خَرَجَ مِنْ مَكَّةَ وَنَزَلَ يَثْرِبَ، قَالَ: أَقَاتَلَهُ الْعَرَبُ؟ قُلْنَا: نَعَمْ، قَالَ: كَيْفَ صَنَعَ بِهِمْ؟ فَأَخْبَرْنَاهُ أَنَّهُ قَدْ ظَهَرَ عَلَى مَنْ يَلِيهِ مِنَ الْعَرَبِ وَأَطَاعُوهُ، قَالَ لَهُمْ: قَدْ كَانَ ذَلِكَ؟ قُلْنَا: نَعَمْ، قَالَ: أَمَا إِنَّ ذَاكَ خَيْرٌ لَهُمْ أَنْ يُطِيعُوهُ، وَإِنِّي مُخْبِرُكُمْ عَنِّي، إِنِّي أَنَا الْمَسِيحُ، وَإِنِّي أُوشِكُ أَنْ يُؤْذَنَ لِي فِي الْخُرُوجِ، فَأَخْرُجَ فَأَسِيرَ فِي الْأَرْضِ فَلَا أَدَعَ قَرْيَةً إِلَّا هَبَطْتُهَا فِي أَرْبَعِينَ لَيْلَةً غَيْرَ مَكَّةَ وَطَيْبَةَ، فَهُمَا مُحَرَّمَتَانِ عَلَيَّ كِلْتَاهُمَا، كُلَّمَا أَرَدْتُ أَنْ أَدْخُلَ وَاحِدَةً – أَوْ وَاحِدًا – مِنْهُمَا اسْتَقْبَلَنِي مَلَكٌ بِيَدِهِ السَّيْفُ صَلْتًا، يَصُدُّنِي عَنْهَا، وَإِنَّ عَلَى كُلِّ نَقْبٍ مِنْهَا مَلَائِكَةً يَحْرُسُونَهَا، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَطَعَنَ بِمِخْصَرَتِهِ فِي الْمِنْبَرِ: «هَذِهِ طَيْبَةُ، هَذِهِ طَيْبَةُ، هَذِهِ طَيْبَةُ» – يَعْنِي الْمَدِينَةَ – «أَلَا هَلْ كُنْتُ حَدَّثْتُكُمْ ذَلِكَ؟» فَقَالَ النَّاسُ: نَعَمْ، «فَإِنَّهُ أَعْجَبَنِي حَدِيثُ تَمِيمٍ، أَنَّهُ وَافَقَ الَّذِي كُنْتُ أُحَدِّثُكُمْ عَنْهُ، وَعَنِ الْمَدِينَةِ وَمَكَّةَ، أَلَا إِنَّهُ فِي بَحْرِ الشَّأْمِ، أَوْ بَحْرِ الْيَمَنِ، لَا بَلْ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ مَا هُوَ، مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ مَا هُوَ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ، مَا هُوَ» وَأَوْمَأَ بِيَدِهِ إِلَى الْمَشْرِقِ، قَالَتْ: فَحَفِظْتُ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،
ترجمہ
ایک دن جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا کہ تمام لوگوں اپنی نماز کی جگہ پر رہیں
پھر فرمایا کہ کیا تمہیں معلوم ہے کہ میں نے تمہیں کیوں جمع کیا ہے؟ صحابہ نے فرمایا کہ اللہ اور اس کا رسولﷺ زیادہ جانتا ہے۔ حضور نے فرمایا: اللہ کی قسم میں نے کسی شوق یا خوف دلانے کے لیے آپ لوگوں کو جمع نہیں کیا، لیکن اس لیے جمع کیا ہے کہ تمیم داری ایک عیسائی شخص تھے، وہ آئے اور اسلام قبول کیا ہے، اور مجھے ایک بات بتائی جو بالکل وہی ہے جو مین تمہیں مسیح دجال کے بارے میں بتایا کرتا ہوں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ ایک سمندی کشتی میں سوار تھے تیس آدمیوں کے ساتھ، جو قبیلہ لحم اور جذام کے تھے۔ تو انہوں نے ایک مہینے تک سمندر میں طوفان کا سامنا کیا، پھر وہ بھٹک کر ایک جزیرے پر پہنچے، جو مغرب کی طرف تھا۔ تو وہ کشتی کدے قریب ہی بیٹھ گئے۔ اور جزیرہ میں داخل ہوگئے، تو انہیں ایک موٹا سا چوپایا جو گھنے اور گھونگریالے بالوں والا تھا، اس کے بال اتنے زیادہ تھے کہ یہ پتا نہیں لگ رہا تھا کہ اس کا اگلا حصہ کون سا ہے اور پچھلا کون سا؟
ہم نے کہا: برباد ہو تو ! کون ہے؟ اس نے کہا کہ میں جساسہ ہوں۔ ہم نے کہا یہ جساسہ کیا ہے؟ اس نے کہا چلو اس آدمی کے پاس جو کنویں میں ہے، کیوں کہ اسے تم سے کچھ خبریں لینے کا شوق ہے۔ پھر ہم جلدی سے اس کی طرف بڑھے اور اس سے ڈرے بھی۔ اور یہ بھی خوف تھا کہ یہ شیطان نہ ہو کوئی۔ تو اس نے کہا : مجھے ’’بیسان‘‘ کے  درختوں کی خبر دو کچھ۔ ہم نے کہا کہ کون سی خبر پوچھ رہے ہو؟ تو اس نے کہا کہ کیا وہ پھل دیتے ہیں؟ ہم نے کہا کہ ہاں۔ تو اس نے کہا کہ قریب ہے کہ وہ پھل دینا بند کردیں۔ پھر اس نے کہا کہ مجھے بحیرہ طبریہ کی کچھ خبر دو۔ ہم نے کہا اس کی کیا خبر دیں؟ اس نے کہا کہ کیا اس میں پانی ہے؟ ہم نے کہا کہ اس مین تو بہت سا پانی ہے۔ اس نے کہا کہ قریب ہے کہ خشک ہوجائے۔ پھر اس نے کہا کہ مجھے ’’زغر‘‘ کے چشمے کی خبر دو کچھ؟ ہم نے پوچھا کہ کس بارے میں ؟ اس نے کہا کہ کیا اس چشمے میں پانی ہے؟ اور کیا وہاں کے لوگ اس کے پانی سے اپنی زمینوں کو سیراب کرتے ہیں؟ ہم نے کہا کہ ہاں اس میں تو  پانی بہت ہے، اور ادھر کے لوگ اس سے کھیتی باڑی بھی کرتے ہیں۔ پھر اس نے کہا کہ مجھے امیون کے نبی کی خبر دو کہ اس کا کیا ہوا؟ ہم نے کہا کہ وہ تو مکہ سے نکل گئے اور یثرب (مدینہ) میں آگئے ہیں۔ اس نے کہا کہ کیا عرب لوگوں نے ان سے جنگ کی؟ ہم نے کہا کہ ہاں! پھر اس نے کہا کہ اس نے عرب لوگوں کے ساتھ کیا سلوک کیا؟ ہم نے اسے بتایا کہ وہ اپنے ارد گرد کے عرب علاقوں پر غالب ہوگئے ہیں اور عرب لوگ اس کی اطاعت ميں آگئے ہیں۔ پھر اس نے کہا: کیا یہ ہوگیا ہے؟ ہم نے کہا کہ ہاں۔ پھر اس نے کہا کہ ان عربوں کے لیے یہی بہتر تھا کہ اس کی اطاعت کرتے۔ اور میں تمہیں اپنے بارے مین خبر دیتا ہوں کہ میں مسیح (دجال) ہوں۔
اور اب قریب ہے کہ مجھے نکلنے کی اجازت مل جائے۔ تو میں پھر زمین میں چلوں گا اور کوئی علاقہ نہین چھوڑوں گا مگر چالیس راتوں کے اندر اندر اس میں داخل ہوجاؤں گا، سوائے مکہ اور مدینہ کے۔وہ دونوں علاقے مجھ پر حرام کردیے گئے ہیں۔ اور اس کے ہر راستے پر فرشتے ہوں گے جو اس کی حفاظت کریں گے۔
یہ سب باتیں بیان کرنے کے بعد رسول اللہ ﷺ نے منبر کھڑے ہوئے ہی کہا کہ یہ شہر طیبہ ہے، یہ شہر طیبہ ہے۔ کیا میں تم کو یہ باتیں بیان نہین کرتا تھا؟ لوگوں نے جواب دیا کہ جی ہاں!

اسوہء حسنہ

زندگی گذارنےکا بہترین طریقہ
گھر کے ہر فرد کے لیٗے
Share This